دہشت گردی کی معاونت ،شرعی حیثیت اور اثرات
Abstract
دہشت گردی کا لفظ آج زبان زدِ عام ہے اور اس کے مفہوم کی ادائیگی کے لئے مختلف زبانوں میں مختلف الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ عربی میں اس کے لئے"ارھاب" اورانگریزی میں “Terrorism”کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔دہشت گردی کےلئےفقہ حنفی کے مشہور امام ابن ہمام نے محاربت کا لفظ استعمال کرتے ہوئے اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے:
بأنهم الخارجون بلا تأویل بمنعه وبلا منعة یأخذون اموال الناس ویقتلونهم ویخیفون الطریق۔[i]
"محاربین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی تاویل کے بغیر محض طاقت کی بنیاد پر بلاوجہ بغاوت کرنے والے ہیں ،لوگوں کے مال چھین لیتے ہیں ،انہیں قتل کرتے اور راستوں میں خوف وہراس پیدا کرتے ہیں"
[i] ۔ ابن ہمام،محمد بن عبدالواحد،فتح القدیر،دارلفکر،بیروت،6/99