عورت کی معاشی سرگرمیوں کی حدود ،تقاضے اور مسائل

Authors

  • نسیم محمود اسسٹنٹ پروفیسر،شعبہ علوم ِ اسلامیہ،گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی،سیالکوٹ
  • محمد ارشد ایسوسی ایٹ پروفیسر،شعبہ علوم ِ اسلامیہ،گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی،سیالکوٹ

Abstract

اسلام ایک مکمل ضابطہء حیات ہے اور زندگی سے متعلق ہر گوشہ پر اہم تعلیمات فراہم کرتا ہے اور زندگی میں نکھار پیدا کرنے کے لئے راہنمائی فراہم کرتا ہے۔زندگی کے اہم ترین گوشوں میں ایک گوشہ عورت کی زندگی اور اس کے حقوق وفرائض ہیں۔مردوزن انسانی زندگی کے دو اہم ستون ہیں اور ان میں ہر ایک کی ذمہ داریوں کے اہم گوشے ہیں جن میں وہ اپنا کردار ادا کرکے خاندانی نظام میں نکھار پیدا کرکے معاشرے کو حقیقی معنوں میں ایک فلاحی معاشرہ بنا کر انسانی زندگی کو واقعۃ ً  اللہ تعالیٰ کی نیابت والی زندگی بنا دیتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ نے عورت کی ذمہ داریوں کی حدود کا تعین کر دیا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آیا عورت معاشی اعتبار اپنے آپ کو مصروفِ عمل کر سکتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ آج معاشرے کا ہر فرد فکرِ معاش میں مبتلاء ہے اور ہر کسی کے ذہن میں یہی ہے کہ زیادہ مال خوشحالی کا ذریعہ ہے اور اس مقصد کے لئے مردوزن کی تمیزکے بغیر معاشرے کا ہر فرد یہ سمجھتا ہے کہ معاشی وسائل کے حصول کے لیےمحنت اور دوڑ دھوپ کرنا لازمی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے مردو اور عورت دونوں پر معاشی تگ ودو لازم نہیں کی بلکہ اس میدان میں ذمہ داری مرد کی بنتی ہے اور عورت کو گھر کے اندر تربیت اولاد اور گھر کے نظام کی تنظیم کی ذمہ داریاں سونپیں تا کہ گھر سکون اور محبتوں کا مرکز ہو اور گھر کا ہر فرد ایک عملی مسلمان نظر آئے۔اسی لئے نبی کریم ﷺنے فرمایا:المراة راعية علی بيت زوجها وولده و هی مسؤلة عنھم) [i]("عورت اپنے شوہر کے گھر اس کے بچوں کی نگران ہے اور اس دائرہ عمل میں جواب دہ ہے"

 

[i]۔بخاری،محمد بن اسماعیل،الجامع الصحیح،کتاب الصلوٰۃ،باب الجمعۃ فی القریٰ والمدن ،دار طرق النجاۃ،الطبعۃ الاولیٰ،

1422ھ،رقم الحدیث 893؛ علامہ ناصرالدین البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے

Downloads

Published

2018-12-31