اسلام مىں جہادبالسیف کی شرائط

Authors

  • علی اکبر الازہری ایسوسی ایٹ پروفیسر،شعبہ علوم اسلامیہ ،لاہور گیریژن یونیورسٹی،لاہور
  • محمد افضل پی ایچ ڈی سکالر، شعبہ علوم اسلامیہ،یونیورسٹی آف لاہور

Abstract

بعض اوقات چند مفسدین کا مسلح تصادم پوری ریاست کی سلامتی کو معرضِ خطر میں ڈال دیتا ہے۔ یہ فتنہ پرور نہ صرف جہاد کے نام پر ریاست کو عدمِ استحکام سے دو چار (destabilize) کرتے ہیں بلکہ اس کی نظریاتی بنیادوں پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں۔ ایسے ناعاقبت اندیشوں کی اسلام دشمن حرکات سے بچنے کے لیے اسلام نےجہاد بالسیف کے وجوب کے لیے کچھ ناگزیر شرائط اور حدود و قیود متعین کی ہیں، جن کے بغیر ہرگز جہاد بالقتال یا جہاد بالسیف کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عصرِ حاضر کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ بعض طبقات کی طرف سے شریعت کی متعین کردہ شرائط اور مقاصد و اہداف کو نظر انداز کرکے محض کسی کے خلاف مسلح جنگ کو ہی جہاد یا قتال کا نام دے دیا جاتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ دفاعی جہاد کی شرائط کو قرآن و حدیث، آثارِ صحابہ اور فقہاء کی تصریحات کی روشنی میں بیان کردیا جائے تاکہ شرعی جہاد اور غیر ریاستی عناصر کے ’’فساد‘‘ میں فرق کیا جا سکے۔ اسلام میں جہاد بالسیف کے جواز اور فرضیت کے لئے چند ناگزیر شرائط ہیں جن کے بغیر جہاد ممکن نہیں

Downloads

Published

2018-12-31