صوفیہ کرام اورباہمی رواداری :کشف المحجوب کی روشنی میں
Abstract
تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ صوفیہ کرام نے ہمیشہ امن وآشتی ،بین المذاہب رواداری ،سماجی وثقافتی ہم آہنگی اورقو می یک جہتی کی تعلیم دی ہے ۔صوفیہ کا مقصدِ حیات مخلوق کا رشتہ خالق سے مستحکم کرنا ہے۔چنانچہ دعوت دین کے لیے ان کا پسندیدہ مقام وہ ہوتا نسلی ، مذہبی ، لسانی اور ثقافتی کثرت کا حامل ہو ۔تاکہ وہ اپنی تعلیمات مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے اللہ کے ان بندوں تک بھی پہنچا سکیں جنہیں اللہ کی وحدانیت کا شعور نہیں ہوتا۔جو اللہ کے دین سے دور اور نفرت وعداوت کے ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ صوفیہ کرام اسی مقصد خیر کی تکمیل کے لیے تکثیری معاشرے کواپنی دعوت وتبلیغ کے لیے ترجیح دیا کرتےہیں ۔صوفیہ کرام نے مسلمانوں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی اسلا م سے قریب کر نے کےلیے محبت اور رواداری کے اصولوں پر کام کیا۔سختی اور تشدد کو انہوں نے کبھی پسند نہیں کیا ۔ اوریہی دعوت ِدین کا زریں اصول بھی ہے ۔دعوت کے عمل سے وابستہ شخص کو ہر فرد کے ساتھ شفقت ومحبت کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے ،کیوں کہ داعی جب اپنے عمدہ اخلاق کے ذریعہ انسانی قلوب پر قبضہ کر لیتا ہے تو اپنا پیغام بڑی آسانی کے ساتھ ان تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ برصغیر کےصوفیہ نے غیر مسلموں کے ساتھ شگفتہ تعلقات رکھنے کو دعوت وتبلیغ کے لیے موثر قرار دیتے ہوئے اس کی تاکید کی ۔سیدنا داتاگنج بخش ہجویری بھی برصغیر کے ان سرخیل صوفیہ میں سے ہیں جنہوں نے ہمیشہ امن وسلامتی ،بین المذاہب رواداری ،ثقافتی ہم آہنگی اور سماجی انصاف کی تعلیم دی ہے۔کشف المحجوب میں آپ کی بیان کردہ تعلیماتِ امن وسلامتی اور رواداری نہ صرف اہل ایمان کے لیے بلکہ تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔مقالہ ہذا میں اسی موضوع پر تحقیق پیش کی گئی ہے۔