صوفیہ خام اور علماء سوء کی مذہبی اجارہ داری کے معاشرتی اثرات (کشف المحجوب کی تعلیمات کی روشنی میں)
Abstract
انسان قدرت کا حسین شاہکار ہے۔اورانسانی عظمت و بزرگی کا رازمعرفت خداوندی کا حصول ہے۔ انسانوں میں سب سے عزت والاشخص صاحب تقوی ہے ، جبکہ تقوی کی بنیاد علم و عمل ہے۔انسانی تخلیق کا مقصد اولین معرفت خداوندی ہے۔اور قرب و معرفت کا ذریعہ علم ہے۔اسلام نے اسی بنا پر علم کا حصول فر ض قرار دیا۔رحمت دو عالم ﷺ کا فرمان ذیشان ہے:
طلب العلم فرضة على كل مسلم [i]
علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔
حضرت ابو علی ثقفی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:
العلم حیوة القلب من الجهل ونور العین من الظلمة [ii]
جہالت اور تاریکی کے مقابلے میں علم دل کی زندگی اور آنکھوں کا نور ہے۔
علم اور عمل دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ نہ ہی علم بغیر عمل کسی کام کا ہے اور نہ ہی عمل بغیر علم کوئی قدر و قیمت کا حامل ہے۔حضرت علی ہجویری علیہ الرحمہ علم و عمل کے باہم پیوست ہونے کو یوں بیان کرتے ہیں:
"عمل بے علم عمل نباشدعمل آنگاہ عمل گردد کہ موصول علم باشد " [iii]
بغیر علم کے عمل کو حقیقت میں عمل ہی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ عامل جبھی عمل کرتا ہے جبکہ پہلے اسے اس کا علم ہوتا ہے۔
[i] ۔ ابن ماجہ، ابو عبد اللہ محمد بن یزید (۲۷۳ھ)، سنن ابن ماجہ، دار الرسالۃ العالمیۃ، بیروت:۱۴۳۰ھ/۲۰۰۹م ،باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم:۲۲۴۔بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین (۴۵۸ھ)،شعب الایمان، مکتبۃ الرشد للنشر والتوزیع، الریاض، الطبعۃ الاولی:۱۴۲۳ھ/۲۰۰۳م، باب طلب العلم:۱۵۴۶
[ii] ۔ہجویری، علی بن عثمان،کشف المحجوب، مترجم مفتی غلام معین الدین نعیمی، انس پبلیکیشنز، اردو بازار لاہور۲۰۰۴م:۴۹۔ سمرقندی، ابو اللیث نصر بن محمد(۳۷۳ھ)، تنبیہ الغافلین باحادیث سید الانبیاء والمرسلین، باب فضل طلب العلم، دار ابن کثیر، دمشق، الطبعۃ الثالثۃ:۱۴۲۱ھ/۲۰۰۰م:۴۲۹۔منذری، ابو محمد زکی الدین عبد العظیم بن عبد القوی (۶۵۶ھ)، الترغیب والترھیب من الحدیث الشریف، کتاب العلم ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، الطبعۃ الاولی:۱۴۱۷ھ: ۱۰۷
[iii] ۔کشف المحجوب:۴۰