تعلیمات سید ہجویرؒ کی عصری معنویت
Abstract
ابو الحسن سید علی بن عثمان الجلابی الہجویری الغزنوی المعروف بہ داتا گنج بخش ؒ کے متعلق اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ آپ برعظیم پاک و ہند کے سب سے پہلے اور سب سے جلیل القدر صاحب تصنیف صوفی ہیں۔[i] آپ کی پیدائش و وفات سے متعلق کوئی حتمی تاریخ مقرر نہیں البتہ قوی اعداد و شمار کے مطابق پیدائش 381ھ سے 401ھ کے درمیان اور وصال 456ھ سے 465ھ کا کوئی درمیانی سال ہے۔ آپ کے حالات زندگی کی تفصیلات میں اکثر مراجع خاموش ہیں یا انتہائی محدود معلومات کے حامل ہیں البتہ آپ کی کتاب "کشف المحجوب " اس سلسلہ میں خاصی مددگار ہےجس کے تراجم و شروحات یا آپؒ کی سوانح عمری پر مبنی کتب سے ان کا احاطہ کیا جاسکتا ہے۔آپ مذہباً حنفی اور مشرباً جنیدی تھے۔ ظاہری و باطنی علوم میں آپ کا تعلق خاص بڑے بڑے اکابرین سے تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام سے آپ کے تعلق کا تذکرہ بہت سی کتب میں موجود ہے۔ حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ سے آپ خاص عقیدت رکھتے تھے۔ آپ کے اساتذہ میں حضرت ابو العباس بن محمد اشقانی ؒ ، حضرت ابو جعفر بن مصباح صیدلانی ؒ ، شیخ ابو القاسم بن علی بن عبداللہ گرگانی ؒ اور شیخ ابو الفضل محمد بن حسن ختلیؒ جیسے اکابرین شیوخ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے معاصرین صوفیاء ابو القاسم امام قشیریؒ اور شیخ احمد حمادی سرخسی ؒسے بھی اکتساب فیض کیا
[i] ۔ محمد اکرام ، شیخ ، آب کوثر ،ص 78 ، ادارہ ثقافت اسلامیہ لاہور 1984ء ؛محمد علی چراغ ، ترجمہ کشف المحجوب ، تعارف ، ص 15 ، نذیر سنز پبلشرز لاہور 1998 ء ۔